بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || گوکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) مسلمانوں کے نزدیک سید العالمین اور سید المرسلین ہیں مگر ان غیر مسلم دانشوروں نے بھی آپؐ کو تاریخ کے عظیم ترین راہنماؤں کے زمرے میں شمار کیا ہے؛ کچھ نے دین اور معاشرے دونوں میدانوں میں آپؐ کی بیک وقت کامیابی کو بے مثال قرار دیا ہے، اور دوسروں نے ایک بکھری ہوئی قوم کو امتِ واحدہ بنانے میں آپؐ کی صلاحیت اور انسانی تاریخ پر آپؐ کے پائیدار اثرات کا تذکرہ کیا ہے۔
پیغمبرؐ، تاریخ کے عظیم ترین رہنما، جولز میسرمین
امریکی ماہر نفسیات، ڈاکٹر جولز میسرمین (Jules Masserman) نے عظیم راہنماؤں کی خصوصیات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک رہنما کے لئے تین بنیادی فرائض گنوائے ہیں:
1۔ پیروکاروں کی بھلائی اور فلاح و بہبود کا اہتمام،
2۔ سماجی تنظیم اور ممکنہ حد تک تحفظ فراہم کرنا، اور
3۔ عقائد و فکری مبانی [اصولوں] کا ایک مجموعہ فراہم کرنا۔
وہ ـ پاسچر، سالک، گاندھی، کنفیوشس، سکندر، قیصر، عیسیٰ (علیہ السلام) اور بدھ جیسی شخصیات کا موازنہ کرنے کے بعد، ـ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے بارے میں لکھتے ہیں: "محمدؐ کو پوری تاریخ کا عظیم ترین راہنما کہا جا سکتا ہے، کیونکہ آپؐ تینوں فرائض سے عہدہ برآ ہوئے۔" (1)
اس رائے کی اہمیت اس میں ہے کہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو محض ایک مذہبی راہنما کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ ان کی کامیابی کو فکری، سماجی اور انتظامی شعبوں میں بیک وقت دیکھا جاتا ہے۔

مائیکل ہارٹ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو تاریخ کے مؤثر ترین انسانوں میں اول کیوں رکھا؟
مشہور کتاب "100: تاریخ کی مؤثر ترین شخصیات کی درجہ بندی" (The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History) کے مصنف، مائیکل ہارٹ (Michael H. Hart) نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو اپنی فہرست میں پہلے نمبر پر قرار دیا ہے۔
وہ اس انتخاب کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"دنیا کے مؤثر ترین افراد کی فہرست میں محمدؐ کو سرفہرست رکھنا شاید کچھ قارئین کو حیران کر دے اور کچھ دوسروں کی طرف سے تنقید کا باعث بنے؛ لیکن وہ تاریخ کے واحد انسان ہیں جنہوں نے مذہبی اور دنیاوی دونوں میدانوں میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔" (2)
ہارٹ دراصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے تاریخی مرتبے کا راز روحانی و مذہبی قیادت اور سماجی و سیاسی قیادت کے امتزاج میں دیکھتے ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ)، بکھرے ہوئے قبائل سے ایک متحد امت کی تشکیل تک ول ڈیورانٹ کی نظر میں
نامور امریکی مورخ اور مصنف ول ڈیورنٹ (William James Durant) جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے تاریخی اثرات کا جائزہ لیتے ہیں، تو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر کسی انسان کی عظمت کو 'لوگوں پر اس کے اثر' سے پرکھا جائے، تو محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) انسانی تاریخ کی عظیم ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ (3)
ڈیورانٹ اسلام سے پہلے کے سرزمین عرب کے سماجی اور ثقافتی حالات کا حوالہ دیتے ہیں اور لکھتے ہیں: "محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) اپنے معاشرے کے علمی اور اخلاقی سطح کو بلند کرنے میں کامیاب رہے اور آپؐ نے بکھرے ہوئے بت پرست قبائل سے ایک امت واحدہ میں بدل دیا۔
ان کے نزدیک، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اس معاشرے میں جو تبدیلی پیدا کی، وہ تاریخ کے بہت سے بڑے مصلحین کی کامیابیوں سے بالاتر تھی اور اس کے اثرات صدیوں تک جاری رہے۔ (4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: سید محمد حسین راجی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
حوالہ جات آخری [چوتھی] قسط میں ملاحظہ فرمائیں
آپ کا تبصرہ